تکبیرِ تحریمہ کہنا۔ فرض نماز میں قدرت ہونے کی صورت میں قیام کرنا۔ قرآنِ کریم کی قراءت کرنا۔ رکوع کرنا۔ ہر رکعت میں دو سجدے کرنا۔ آخری قعدہ کرنا۔ قعدۂ اخیرہ میں تشہد کی مقدار بیٹھنا۔ سلام کے ذریعے نماز سے نکلنا۔
पुस्तकालय
फ़तावा
इबादत, ख़ानदान, तिजारत और रोज़मर्रा के मसाइल पर लिखित फ़तावा, हर एक के साथ विषय, तारीख़ और संदर्भ संख्या।
شرعی شرائط کے ساتھ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔ ایسا موزہ جو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو اور شرعی معیار پر پورا اترتا ہو، اسے اتارنے کے بجائے اس کے اوپر مسح کیا جاسکتا ہے۔
تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ پاک مٹی یا جنسِ زمین کی کسی چیز پر دونوں ہاتھ مار کر پورے چہرے کا مسح کیا جائے، پھر دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا جائے۔
درج ذیل صورتوں میں غسل فرض ہوجاتا ہے:
غسل کے تین فرض ہیں:
مندرجہ ذیل امور سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
وضو کے چار فرض ہیں:
رسول اللہ ﷺ کے قول، فعل، تقریر اور آپ ﷺ کے طریقۂ مبارک کو سنت کہا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف دین میں ایسی نئی بات ایجاد کرنا جس کی شریعت میں کوئی معتبر اصل نہ ہو، بدعت کہلاتی ہے۔
میلاد میں قرآنِ کریم کی تلاوت، نعتِ رسول ﷺ، درود و سلام، ذکرِ ولادت و سیرت اور صدقہ و خیرات جیسے جائز امور کیے جائیں تو یہ شرعاً درست ہے
قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ عبرت و آخرت کی یاد کا ذریعہ ہے