غسل کب فرض ہوتا ہے

यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।

فتویٰ نمبر: 20 — غسل کب فرض ہوتا ہے

استفتاء:

کن صورتوں میں غسل فرض ہوجاتا ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

درج ذیل صورتوں میں غسل فرض ہوجاتا ہے:

شہوت کے ساتھ منی خارج ہونا، خواہ بیداری میں ہو یا نیند میں۔

میاں بیوی کے درمیان دخول ہوجانا، خواہ انزال نہ ہوا ہو۔

عورت کا حیض ختم ہونا۔

عورت کا نفاس ختم ہونا۔

احتلام کے بعد منی کا اثر ظاہر ہونا۔

لہٰذا جب کسی شخص پر غسل فرض ہوجائے تو نماز اور دیگر وہ عبادات جن کے لیے طہارت شرط ہے، ان سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے۔

حوالہ:

الہدایہ، کتاب الطہارت؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ رد المحتار، کتاب الطہارت۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

PDF में डाउनलोड करें साझा करें

संबंधित

इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।

सभी देखें
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت ur

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 अगस्त 2026 MAM025 पढ़ें
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو ur

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 अगस्त 2026 पढ़ें
03
قضا نماز
قضا نماز ur

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

29 अगस्त 2026 पढ़ें
सवाल