حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
نماز کے فرائض
यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।
فتویٰ نمبر: 23 — نماز کے فرائض
استفتاء:
نماز کے کتنے فرائض ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
نماز کے فرائض میں نماز سے پہلے کی شرائط اور نماز کے اندر کے ارکان شامل ہیں۔ نماز صحیح ہونے کے لیے تکبیرِ تحریمہ، قیام، قراءت، رکوع، سجدہ اور قعدۂ اخیرہ وغیرہ کا شرائط و تفصیل کے ساتھ ادا ہونا ضروری ہے۔
نماز کے اہم فرائض یہ ہیں:
تکبیرِ تحریمہ کہنا۔
فرض نماز میں قدرت ہونے کی صورت میں قیام کرنا۔
قرآنِ کریم کی قراءت کرنا۔
رکوع کرنا۔
ہر رکعت میں دو سجدے کرنا۔
آخری قعدہ کرنا۔
قعدۂ اخیرہ میں تشہد کی مقدار بیٹھنا۔
سلام کے ذریعے نماز سے نکلنا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ
ترجمہ: ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘
(سورۃ البقرۃ: 43)
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
संबंधित
इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔