بدعت اور سنت

This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.

فتویٰ نمبر: 16 — بدعت اور سنت

استفتاء:

سنت اور بدعت کسے کہتے ہیں؟

الجواب وبالله التوفيق:

رسول اللہ ﷺ کے قول، فعل، تقریر اور آپ ﷺ کے طریقۂ مبارک کو سنت کہا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف دین میں ایسی نئی بات ایجاد کرنا جس کی شریعت میں کوئی معتبر اصل نہ ہو، بدعت کہلاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

ترجمہ: ’’جس نے ہمارے اس دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔‘‘

(صحیح البخاری، کتاب الصلح؛ صحیح مسلم، کتاب الأقضیۃ)

لہٰذا ہر نیا کام محض نیا ہونے کی وجہ سے بدعتِ شرعی نہیں ہوتا؛ بلکہ وہ دینی عمل جس کی شریعت میں کوئی معتبر اصل نہ ہو اور اسے ثواب کی نیت سے دین کا حصہ بنایا جائے، اس کا حکم الگ سے دیکھا جائے گا۔

حوالہ:

صحیح البخاری، کتاب الصلح؛ صحیح مسلم، کتاب الأقضیۃ؛ فتح الباری شرح صحیح البخاری۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

Download as PDF Share

Related

Other entries on the same topic.

View all
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت ur

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 August 2026 MAM025 Read
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو ur

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 August 2026 Read
03
قضا نماز
قضا نماز ur

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

29 August 2026 Read
Ask