حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
قضا نماز
فتویٰ نمبر: 28 — قضا نماز
استفتاء:
اگر کسی شخص کی نماز رہ جائے تو کیا کرے؟
الجواب وبالله التوفيق:
اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»
ترجمہ: ’’جب اسے نماز یاد آئے تو اسے پڑھ لے۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد)
اور اگر کسی شخص کی فرض نمازیں جان بوجھ کر رہ گئی ہوں تو اس پر سچی توبہ کے ساتھ ان نمازوں کی قضا ادا کرنا لازم ہے۔ البتہ قضا نمازوں کی تعداد زیادہ ہو تو ترتیب کے ساتھ بتدریج ادا کرتا رہے۔
حوالہ:
صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔