قضا نماز

هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.

فتویٰ نمبر: 28 — قضا نماز

استفتاء:

اگر کسی شخص کی نماز رہ جائے تو کیا کرے؟

الجواب وبالله التوفيق:

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»

ترجمہ: ’’جب اسے نماز یاد آئے تو اسے پڑھ لے۔‘‘

(صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد)

اور اگر کسی شخص کی فرض نمازیں جان بوجھ کر رہ گئی ہوں تو اس پر سچی توبہ کے ساتھ ان نمازوں کی قضا ادا کرنا لازم ہے۔ البتہ قضا نمازوں کی تعداد زیادہ ہو تو ترتیب کے ساتھ بتدریج ادا کرتا رہے۔

حوالہ:

صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

نزِّلها PDF مشاركة

ذات صلة

مواد أخرى في الموضوع نفسه.

عرض الكل
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت ur

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 أغسطس 2026 MAM025 اقرأ
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو ur

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 أغسطس 2026 اقرأ
03
نماز توڑنے والی چیزیں
نماز توڑنے والی چیزیں ur

جان بوجھ کر بات کرنا، خواہ ایک لفظ ہی ہو۔ کسی کو جواب دینے کی نیت سے کلام کرنا۔ کھانا یا پینا۔ قبلہ سے سینہ پھیر دینا۔ نماز کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنا جس سے دیکھنے والے کو غالب گمان ہو کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے۔ بلا عذر زیادہ حرکت کرنا۔ قرآنِ کریم کو اس طرح پڑھنا کہ معنی میں واضح فساد پیدا ہوجائے۔ بالغ شخص کا رکوع و سجدہ والی نماز میں اتنی آواز سے قہقہہ لگانا کہ پاس والا سن سکے؛ اس سے نماز اور وضو دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔

29 أغسطس 2026 اقرأ
سؤال