← عودة إلى المادة في نافذة الطباعة اختر «Save as PDF» وجهةً.

المفتي السيد محمد عالم مداري

حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث

مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند

الفتاوى

تاريخ النشر
29 أغسطس 2026
الموضوع
قضا نماز
اللغة الأصلية
اردو

قضا نماز

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

فتویٰ نمبر: 28 — قضا نماز

استفتاء:

اگر کسی شخص کی نماز رہ جائے تو کیا کرے؟

الجواب وبالله التوفيق:

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»

ترجمہ: ’’جب اسے نماز یاد آئے تو اسے پڑھ لے۔‘‘

(صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد)

اور اگر کسی شخص کی فرض نمازیں جان بوجھ کر رہ گئی ہوں تو اس پر سچی توبہ کے ساتھ ان نمازوں کی قضا ادا کرنا لازم ہے۔ البتہ قضا نمازوں کی تعداد زیادہ ہو تو ترتیب کے ساتھ بتدریج ادا کرتا رہے۔

حوالہ:

صحیح البخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری