نماز توڑنے والی چیزیں

هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.

فتویٰ نمبر: 27 — نماز توڑنے والی چیزیں

استفتاء:

کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

نماز کے دوران درج ذیل امور سے نماز فاسد ہوجاتی ہے:

جان بوجھ کر بات کرنا، خواہ ایک لفظ ہی ہو۔

کسی کو جواب دینے کی نیت سے کلام کرنا۔

کھانا یا پینا۔

قبلہ سے سینہ پھیر دینا۔

نماز کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنا جس سے دیکھنے والے کو غالب گمان ہو کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے۔

بلا عذر زیادہ حرکت کرنا۔

قرآنِ کریم کو اس طرح پڑھنا کہ معنی میں واضح فساد پیدا ہوجائے۔

بالغ شخص کا رکوع و سجدہ والی نماز میں اتنی آواز سے قہقہہ لگانا کہ پاس والا سن سکے؛ اس سے نماز اور وضو دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔

لہٰذا نماز میں حتی الامکان مکمل سکون، خشوع اور توجہ اختیار کرنا چاہیے اور ہر ایسے عمل سے بچنا چاہیے جو نماز کو فاسد کردے۔

حوالہ:

الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

نزِّلها PDF مشاركة

ذات صلة

مواد أخرى في الموضوع نفسه.

عرض الكل
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت ur

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 أغسطس 2026 MAM025 اقرأ
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو ur

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 أغسطس 2026 اقرأ
03
قضا نماز
قضا نماز ur

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

29 أغسطس 2026 اقرأ
سؤال