حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
سجدۂ سہو
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر: 29 — سجدۂ سہو
استفتاء:
اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے تو کیا حکم ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے، تو نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرنا واجب ہے۔
سجدۂ سہو کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں التحیات پڑھنے کے بعد دائیں طرف ایک سلام پھیر کر دو سجدے کیے جائیں، پھر بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیرا جائے۔
اگر واجب جان بوجھ کر چھوڑا جائے تو گناہ ہوگا اور نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ، باب سجود السهو؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔