تراویح کی رکعات کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان قدیم اختلاف ہے۔ حنفیہ کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہے اور بیس رکعت پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے
کتب خانہ
فتاویٰ
عبادات، خاندان، تجارت اور روزمرہ کے مسائل پر تحریری فتاویٰ, ہر ایک کے ساتھ موضوع، تاریخ اور حوالہ نمبر۔
نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا مشروع ہے، لیکن اسے جہری نماز میں بلند آواز سے پڑھنا لازم نہیں۔ حنفی طریقے میں امام بسم اللہ آہستہ آواز سے پڑھتا ہے، پھر سورۂ فاتحہ کی قراءت شروع کرتا ہے۔
مقتدی کے لیے امام کی اقتدا کرنا لازم ہے۔ جب امام جہری نماز میں قراءت کرے تو مقتدی خاموشی سے امام کی قراءت سنے گا اور خود قراءت نہیں کرے گا۔ سورۂ فاتحہ مکمل ہونے پر آمین آہستہ کہے گا۔
نماز کے قیام میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے۔ مرد کے لیے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا احناف کے نزدیک مسنون طریقہ ہے۔
آمین کہنا سنت ہے، لیکن امام اور مقتدی اسے آہستہ آواز سے کہیں گے۔ یہی احناف کا مسلک ہے۔
اس مسئلے میں ائمۂ مجتہدین کے درمیان معروف اختلاف ہے۔ احناف کے نزدیک مقتدی امام کے پیچھے قرآن کی قراءت نہیں کرے گا، خواہ امام جہری قراءت کر رہا ہو یا سری۔ مقتدی پر امام کی اقتدا اور اس کی قراءت سننا لازم ہے۔
میت کے لیے دعا، استغفار، صدقہ اور ایصالِ ثواب جائز اور باعثِ خیر ہے، لیکن شریعت نے ایصالِ ثواب کے لیے تیسرا، دسواں یا چالیسواں دن مقرر نہیں فرمایا۔
کسی نیک عمل کا ثواب اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے کسی مسلمان میت کو پہنچانا جائز ہے، اور اس کے جواز کی اصل قرآن، حدیث اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے۔
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز واجب ہے۔ اس کے لیے جماعت شرط ہے اور اس کا وقت سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک رہتا ہے۔
کی نماز واجب ہے اور اس کی تین رکعتیں ہیں۔ اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبحِ صادق تک رہتا ہے۔