یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
تراویح آٹھ رکعت ہے یا بیس؟
فتویٰ نمبر: 489
موضوع: تراویح آٹھ رکعت ہے یا بیس؟
استفتاء
رمضان میں تراویح کی نماز آٹھ رکعت ہے یا بیس رکعت؟ نبی کریم ﷺ کی سنت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی روشنی میں صحیح بات کیا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق
تراویح کی رکعات کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان قدیم اختلاف ہے۔ حنفیہ کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہے اور بیس رکعت پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے۔
اس کی بنیاد صرف ایک روایت پر نہیں بلکہ احادیث، آثارِ صحابہ اور خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے اجتماعی عمل پر ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں کتنی رکعت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:
مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً
“رسول اللہ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔”
(صحیح البخاری، کتاب التہجد؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین)
اس حدیث سے بعض اہلِ علم نے آٹھ رکعت تراویح پر استدلال کیا ہے۔
لیکن اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کے رات کے قیام کے ایک مخصوص معمول کا ذکر ہے، اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صحابہ کے باجماعت بیس رکعت پڑھنے کی نفی کے طور پر نہیں لیا جائے گا۔ نیز قیامِ رمضان کی رکعات کے بارے میں دیگر آثار بھی موجود ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل
امام مالک رحمہ اللہ نے موطأ میں سائب بن یزید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے:
أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَمَرَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى وَعِشْرِينَ رَكْعَةً
“حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت اُبی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو اکیس رکعت قیام کرائیں۔”
(موطأ امام مالک، کتاب الصلاة، باب ما جاء في قيام رمضان)
یہاں اکیس رکعت سے مراد بیس تراویح اور ایک وتر لیا گیا ہے۔
اسی طرح بیہقی وغیرہ میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے بیس رکعت کا اثر بھی منقول ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کی اہمیت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي
“تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب السنة؛ جامع الترمذی، کتاب العلم)
لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک اجتماعی عمل معمولی امر نہیں۔ اسی لیے فقہائے احناف نے بیس رکعت تراویح کو اختیار کیا۔
کیا آٹھ رکعت پڑھنے والے کی نماز نہیں ہوتی؟
نہیں، ایسا کہنا درست نہیں۔
آٹھ رکعت پڑھنے والا بھی قیامِ رمضان کی عبادت کر رہا ہے، لیکن حنفی مذہب میں مکمل سنتِ تراویح بیس رکعت ہے۔ اس لیے جو شخص حنفی طریقے پر عمل کرنا چاہے وہ بیس رکعت تراویح ادا کرے۔
اسی طرح بیس رکعت کو صرف اس بنیاد پر بدعت کہنا بھی درست نہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں گیارہ رکعت کا ذکر ہے؛ کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کے اجتماعی عمل اور اس کے فقہی استدلال کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
مراجع
صحیح البخاری، کتاب التہجد
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین
موطأ امام مالک، کتاب الصلاة، باب ما جاء في قيام رمضان
سنن ابی داؤد، کتاب السنة
جامع الترمذی، کتاب العلم
بدائع الصنائع، کتاب الصلاة
الہدایہ، کتاب الصلاة، باب النوافل
رد المحتار، کتاب الصلاة، باب التراویح
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے