کیا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے؟

فتویٰ نمبر 493


کیا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے؟


استفتاء:


اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرتے ہوئے یہ کہے: “اے اللہ! اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے وسیلے سے میری حاجت پوری فرما” تو کیا ایسا کہنا شرعاً جائز ہے؟ اس بارے میں اہلِ علم کے درمیان جو اختلاف ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟


الجواب وبالله التوفيق:


یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔


سب سے پہلے یہ اصول واضح رہے کہ دعا عبادت ہے اور حقیقی حاجت روا و مشکل کشا بالذات صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


«وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ

“اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”

(سورۃ غافر: 60)»


لہٰذا مسلمان جب وسیلہ اختیار کرے تو اس کا عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ حاجت پوری کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، وسیلہ مستقل مؤثر نہیں۔


قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ

“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔”

(سورۃ المائدہ: 35)»


اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اصلِ وسیلہ شرعاً ثابت ہے۔ البتہ وسیلے کی مختلف صورتوں کے حکم میں اہلِ علم نے تفصیل کی ہے۔


حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ایک نابینا صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی بینائی کے لیے دعا کی درخواست کی۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں وضو کرکے نماز پڑھنے اور دعا میں یہ الفاظ کہنے کی تعلیم دی:


«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ...»


“اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد ﷺ کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں...”


یہ روایت جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں مروی ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔


اس حدیث سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ بنانا ایک ایسی صورت ہے جس کی اصل حدیث میں موجود ہے۔


اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کا واقعہ ہے کہ بارش نہ ہونے پر انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی اور فرمایا:


«اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّنَا فَاسْقِنَا»


“اے اللہ! ہم پہلے اپنے نبی کے ذریعے تیری بارگاہ میں وسیلہ پیش کرتے تھے تو تو ہمیں بارش عطا فرماتا تھا، اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعے تیری بارگاہ میں وسیلہ پیش کرتے ہیں، پس ہمیں بارش عطا فرما۔”


(صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء)


اس واقعے سے بعض اہلِ علم نے یہ استدلال کیا کہ زندہ صالح شخص کی دعا کو وسیلہ بنانا بالاتفاق معروف اور ثابت ہے۔


البتہ یہاں ایک اہم علمی تفصیل ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنانا زندہ شخص کی دعا کے وسیلے پر واضح دلیل ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہی صورت ہر دوسری قسم کے توسل کے حکم کو خود بخود ثابت یا رد کردے۔ اسی وجہ سے اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان تفصیلی اختلاف پیدا ہوا۔


چنانچہ اگر کوئی شخص یوں دعا کرے:


“اے اللہ! میں تیرے نبی حضرت محمد ﷺ کے وسیلے سے تجھ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میری حاجت پوری فرما۔”


اور اس کا عقیدہ یہ ہو کہ حاجت پوری کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو ایسی دعا کی گنجائش کے قائل معتبر اہلِ علم موجود ہیں، اور اس کے لیے مذکورہ حدیثِ عثمان بن حنیف سے استدلال کیا گیا ہے۔


لیکن اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی مخلوق کو بالذات مستقل طور پر حاجت پوری کرنے والا، نفع و ضرر کا مالک یا مستقل متصرف سمجھ کر پکارے تو یہ بالکل الگ مسئلہ ہے اور ایسا عقیدہ درست نہیں۔


لہٰذا اس اختلافی مسئلے میں کسی مسلمان پر جلدی سے شرک یا بدعقیدگی کا حکم لگانا مناسب نہیں، بلکہ پہلے اس کے الفاظ، نیت اور عقیدے کو دیکھا جائے۔


حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو وسیلہ بنانا ایک معتبر اختلافی مسئلہ ہے، جس کے جواز کے لیے حدیثِ عثمان بن حنیف وغیرہ سے استدلال کیا گیا ہے۔ البتہ دعا اور حقیقی استعانت کا اصل مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور وسیلہ کو مستقل مؤثر سمجھنا درست نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


مفتی سید محمد عالم مداری

PDF میں ڈاؤن لوڈ کریں شیئر

متعلقہ

اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔

سب دیکھیے
01
کیا قبرستان میں مردوں کو سلام سنائی دیتا ہے؟ — سماعِ موتیٰ کا مسئلہ
کیا قبرستان میں مردوں کو سلام سنائی دیتا ہے؟ — سماعِ موتیٰ کا مسئلہ

یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔

2 ستمبر، 2026 MAM0044 پڑھیے
02
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت

نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے

2 ستمبر، 2026 MAM0043 پڑھیے
03
ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم
ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں اور تینوں طلاق دینے کا قصد اور الفاظ واضح ہوں، تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔ محض یہ بات کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی گئی ہیں، انہیں ایک طلاق نہیں بناتی۔

2 ستمبر، 2026 MAM0041 پڑھیے
سوال