یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
کیا قبرستان میں مردوں کو سلام سنائی دیتا ہے؟ — سماعِ موتیٰ کا مسئلہ
فتویٰ نمبر 492
کیا قبرستان میں مردوں کو سلام سنائی دیتا ہے؟ — سماعِ موتیٰ کا مسئلہ
استفتاء:
کیا قبر میں موجود شخص زندہ لوگوں کی بات، سلام یا پکار سن سکتا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردے بالکل نہیں سنتے، جبکہ بعض احادیث میں قبروں والوں کے سننے کا ذکر ملتا ہے۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ
“بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔”
(سورۃ النمل: 80)»
اور ایک مقام پر فرمایا:
«وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ
“اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔”
(سورۃ فاطر: 22)»
ان آیات سے بعض اہلِ علم نے عمومی طور پر مردوں کے عدمِ سماع پر استدلال کیا ہے۔ لیکن محدثین نے ان آیات کو ہر قسم کے سماع کی مطلق نفی پر محمول نہیں کیا، کیونکہ صحیح احادیث میں بعض مواقع پر مردوں کے سننے کا واضح ثبوت موجود ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الجنائز؛ صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قبر میں موجود میت کو اللہ تعالیٰ بعض مواقع پر ایسی سماعت عطا فرماتا ہے جس سے وہ زندہ لوگوں کی آواز سن سکتی ہے۔
اسی طرح غزوۂ بدر کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مقتول کفار سے خطاب فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مقتولینِ بدر کو مخاطب کرکے فرمایا:
«فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟»
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ ایسے لوگوں کو پکار رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ»
“تم میری بات ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔”
(صحیح البخاری، کتاب المغازی؛ صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا)
اس حدیث سے بھی کم از کم بعض حالات میں مردوں کے سماع کا ثبوت ملتا ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اہلِ قبور کو سلام کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:
«السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ»
“اے مؤمن قوم کے گھر والو! تم پر سلام ہو۔”
(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب استحباب إطالة الغرة والتحجيل في الوضوء؛ نیز کتاب الجنائز میں زیارتِ قبور کی روایات)
احناف کے فقہی ذخیرے میں بھی قبرستان کی زیارت، اہلِ قبور کو سلام اور ان کے لیے دعا کا اہتمام ثابت ہے۔ رد المحتار میں زیارتِ قبور کے آداب بیان کرتے ہوئے اہلِ قبور کو سلام کرنے اور ان کے لیے دعا کرنے کا ذکر موجود ہے۔ نیز الفتاویٰ الہندیہ میں بھی زیارتِ قبور اور اس کے متعلقہ آداب کا بیان ملتا ہے۔
لہٰذا مسئلے کی صحیح تفصیل یہ ہے کہ:
مردوں کے سماع کی اصل شرعاً ثابت ہے، لیکن ان کے سماع کو زندہ انسانوں کے سماع پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جس میت کو، جس وقت اور جس قدر چاہے سماعت عطا فرمائے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “ہر مردہ ہر شخص کی ہر بات ہر وقت سنتا ہے”، اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ “موت کے بعد کسی مردے کو کبھی بھی کسی قسم کی سماعت حاصل نہیں ہوتی۔”
رہا قبرستان میں جاکر سلام کرنا، تو یہ سنت سے ثابت ہے۔ مسلمان قبرستان پہنچ کر اہلِ قبور کو سلام کرے اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ میت کے لیے دعا کرنا خود نفع بخش اور مشروع عمل ہے۔
البتہ کسی میت کو اللہ تعالیٰ کے مستقل اختیار والا سمجھنا درست نہیں۔ سماعت ہو یا کوئی اور تصرف، سب اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے ہے۔ عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ حقیقی قدرت اور مستقل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔
خلاصہ:
میت کے لیے سماع کی اصل صحیح احادیث سے ثابت ہے، لیکن اس سماع کی کیفیت اور وسعت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس لیے نہ مطلقاً سماعِ موتیٰ کا انکار درست ہے، نہ مردوں کے لیے ہر وقت اور ہر چیز سننے کا عقیدہ ضروری ہے۔ قبرستان میں اہلِ قبور کو سلام کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا سنت سے ثابت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے
اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں اور تینوں طلاق دینے کا قصد اور الفاظ واضح ہوں، تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔ محض یہ بات کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی گئی ہیں، انہیں ایک طلاق نہیں بناتی۔