یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
عیدین کی نماز
فتویٰ نمبر: 35 — عیدین کی نماز
استفتاء:
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز کا کیا حکم ہے اور اسے کس طرح ادا کیا جائے؟
الجواب وبالله التوفيق
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز واجب ہے۔ اس کے لیے جماعت شرط ہے اور اس کا وقت سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک رہتا ہے۔
نمازِ عید کا طریقہ:
دو رکعت نماز کی نیت کرکے تکبیرِ تحریمہ کہی جائے۔
ثناء پڑھنے کے بعد تین زائد تکبیریں کہی جائیں؛ ہر تکبیر پر ہاتھ اٹھا کر چھوڑے جائیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیے جائیں۔
پہلی رکعت میں قراءت کی جائے، پھر رکوع و سجود کرکے دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔
دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جائیں، پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں۔
نماز کے بعد امام خطبہ دے گا۔ عید کا خطبہ نماز کے بعد ہونا سنت ہے۔
عید کی نماز اگر کسی شخص سے رہ جائے تو اس کی قضا نہیں پڑھی جاتی۔
دلائل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
(الکوثر: 2)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے، سب سے پہلے نماز ادا فرماتے، پھر لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرماتے۔
(صحیح البخاری، کتاب العیدین؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة العیدین)
مراجعِ فقہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ، باب العیدین
بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ
رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب العیدین
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے