حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
عیدین کی نماز
यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।
فتویٰ نمبر: 35 — عیدین کی نماز
استفتاء:
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز کا کیا حکم ہے اور اسے کس طرح ادا کیا جائے؟
الجواب وبالله التوفيق
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز واجب ہے۔ اس کے لیے جماعت شرط ہے اور اس کا وقت سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک رہتا ہے۔
نمازِ عید کا طریقہ:
دو رکعت نماز کی نیت کرکے تکبیرِ تحریمہ کہی جائے۔
ثناء پڑھنے کے بعد تین زائد تکبیریں کہی جائیں؛ ہر تکبیر پر ہاتھ اٹھا کر چھوڑے جائیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیے جائیں۔
پہلی رکعت میں قراءت کی جائے، پھر رکوع و سجود کرکے دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔
دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جائیں، پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں۔
نماز کے بعد امام خطبہ دے گا۔ عید کا خطبہ نماز کے بعد ہونا سنت ہے۔
عید کی نماز اگر کسی شخص سے رہ جائے تو اس کی قضا نہیں پڑھی جاتی۔
دلائل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
(الکوثر: 2)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے، سب سے پہلے نماز ادا فرماتے، پھر لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرماتے۔
(صحیح البخاری، کتاب العیدین؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة العیدین)
مراجعِ فقہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ، باب العیدین
بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ
رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب العیدین
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
संबंधित
इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔