मुफ़्ती सैयद मोहम्मद आलम मदारी
हाफ़िज़-ए-क़ुरआन · क़ारी · आलिम · मुफ़्ती · पीएच.डी. (हदीस)
मकनपुर शरीफ़, कानपुर नगर, उत्तर प्रदेश, भारत
फ़तावा
- संदर्भ सं.
- MAM0035
- प्रकाशित
- 2 सितंबर 2026
- विषय
- عیدین کی نماز
- मूल भाषा
- اردو
عیدین کی نماز
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز واجب ہے۔ اس کے لیے جماعت شرط ہے اور اس کا وقت سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک رہتا ہے۔
فتویٰ نمبر: 35 — عیدین کی نماز
استفتاء:
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز کا کیا حکم ہے اور اسے کس طرح ادا کیا جائے؟
الجواب وبالله التوفيق
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز واجب ہے۔ اس کے لیے جماعت شرط ہے اور اس کا وقت سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک رہتا ہے۔
نمازِ عید کا طریقہ:
دو رکعت نماز کی نیت کرکے تکبیرِ تحریمہ کہی جائے۔
ثناء پڑھنے کے بعد تین زائد تکبیریں کہی جائیں؛ ہر تکبیر پر ہاتھ اٹھا کر چھوڑے جائیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیے جائیں۔
پہلی رکعت میں قراءت کی جائے، پھر رکوع و سجود کرکے دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔
دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جائیں، پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں۔
نماز کے بعد امام خطبہ دے گا۔ عید کا خطبہ نماز کے بعد ہونا سنت ہے۔
عید کی نماز اگر کسی شخص سے رہ جائے تو اس کی قضا نہیں پڑھی جاتی۔
دلائل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
(الکوثر: 2)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے، سب سے پہلے نماز ادا فرماتے، پھر لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرماتے۔
(صحیح البخاری، کتاب العیدین؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة العیدین)
مراجعِ فقہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ، باب العیدین
بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ
رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب العیدین
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری