نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟

فتویٰ نمبر: 485

موضوع: نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟

استفتاء

نماز میں قیام کے دوران مرد اپنے ہاتھ سینے پر باندھے یا ناف کے نیچے؟ دونوں طریقوں میں سے حنفی طریقہ کیا ہے؟

الجواب وبالله التوفيق

نماز کے قیام میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے۔ مرد کے لیے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا احناف کے نزدیک مسنون طریقہ ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ

“سنت یہ ہے کہ نماز میں ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھی جائے۔”

(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب وضع اليمين على الشمال في الصلاة)

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة)

اس حدیث سے ہاتھ باندھنے کی اصل ثابت ہوتی ہے، جبکہ ناف کے نیچے رکھنے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیا جاتا ہے۔

سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایات

بعض روایات میں سینے پر ہاتھ رکھنے کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن ان روایات کی اسناد کے بارے میں محدثین کے درمیان کلام ہے۔ حنفی فقہاء نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثر اور دیگر آثار کی بنیاد پر مرد کے لیے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو اختیار کیا ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی ہاتھ باندھنے کے مقام کے بارے میں اہلِ علم کے مختلف اقوال نقل کیے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ قدیم زمانے سے اجتہادی اختلاف کا حامل رہا ہے۔

فقہی تصریح

امام مرغینانی رحمہ اللہ الہدایہ میں فرماتے ہیں کہ مرد اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے اور اسے ناف کے نیچے رکھے۔

(الہدایہ، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة)

امام کاسانی رحمہ اللہ بھی بدائع الصنائع میں مرد کے لیے ناف کے نیچے ہاتھ رکھنے کو بیان فرماتے ہیں۔

(بدائع الصنائع، کتاب الصلاة)

کیا سینے پر ہاتھ رکھنے سے نماز خراب ہوجاتی ہے؟

نہیں۔ سینے پر ہاتھ باندھنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، کیونکہ ہاتھ باندھنے کا مقام نماز کے فرائض میں سے نہیں۔ یہ سنت کے مقام کا اختلاف ہے۔

لہٰذا حنفی شخص کے لیے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا مسنون طریقہ ہے، لیکن دوسرے معتبر اجتہادی قول پر عمل کرنے والے مسلمان کی نماز کو باطل کہنا درست نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

PDF میں ڈاؤن لوڈ کریں شیئر

متعلقہ

اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔

سب دیکھیے
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 ستمبر، 2026 MAM0052 پڑھیے
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 ستمبر، 2026 MAM0051 پڑھیے
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 ستمبر، 2026 MAM0050 پڑھیے
سوال