حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
زیارتِ قبور
- فتویٰ نمبر: 14 — زیارتِ قبور
استفتاء:
کیا قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ عبرت و آخرت کی یاد کا ذریعہ ہے۔ مردوں کے لیے قبروں کی زیارت مسنون ہے، بشرطیکہ وہاں کوئی خلافِ شرع کام نہ کیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا»
ترجمہ: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز)
زیارتِ قبور کے وقت سلام کرنا، میت کے لیے دعا و استغفار کرنا اور موت و آخرت کو یاد کرنا چاہیے۔
لہٰذا قبروں کی زیارت جائز ہے، لیکن وہاں سجدہ کرنا، طواف کرنا یا کوئی ایسا عمل کرنا جو شریعت کے خلاف ہو، جائز نہیں۔
حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب الجنائز؛ رد المحتار؛ بہارِ شریعت۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔