زیارتِ قبور

  • فتویٰ نمبر: 14 — زیارتِ قبور

استفتاء:

کیا قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

جی ہاں، قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ عبرت و آخرت کی یاد کا ذریعہ ہے۔ مردوں کے لیے قبروں کی زیارت مسنون ہے، بشرطیکہ وہاں کوئی خلافِ شرع کام نہ کیا جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا»

ترجمہ: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔‘‘

(صحیح مسلم، کتاب الجنائز)

زیارتِ قبور کے وقت سلام کرنا، میت کے لیے دعا و استغفار کرنا اور موت و آخرت کو یاد کرنا چاہیے۔

لہٰذا قبروں کی زیارت جائز ہے، لیکن وہاں سجدہ کرنا، طواف کرنا یا کوئی ایسا عمل کرنا جو شریعت کے خلاف ہو، جائز نہیں۔

حوالہ:

صحیح مسلم، کتاب الجنائز؛ رد المحتار؛ بہارِ شریعت۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

Download as PDF Share

Related

Other entries on the same topic.

View all
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت ur

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 August 2026 MAM025 Read
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو ur

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 August 2026 Read
03
قضا نماز
قضا نماز ur

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

29 August 2026 Read
Ask