حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
توسل کا حکم
فتویٰ نمبر: 13 — توسل کا حکم
استفتاء:
کیا نیک بندوں کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام اور صالحین کے وسیلے کا ذکر کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حقیقی مؤثر اور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جائے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ
ترجمہ: ’’اور اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔‘‘
(سورۃ المائدۃ: 35)
لہٰذا اگر کوئی شخص یوں دعا کرے: ’’اے اللہ! اپنے نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے میری دعا قبول فرما‘‘ تو اصل دعا اللہ تعالیٰ ہی سے ہے اور وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی قبولیت کا ایک ذریعہ سمجھا گیا ہے۔
البتہ کسی غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کی طرح مستقل بالذات مؤثر، مالکِ حقیقی یا حاجت روا سمجھنا درست نہیں۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ المائدۃ: 35؛ شرح العقائد النسفیہ؛ رد المحتار۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
- مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔