توسل کا حکم

هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.

فتویٰ نمبر: 13 — توسل کا حکم

استفتاء:

کیا نیک بندوں کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

جی ہاں، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام اور صالحین کے وسیلے کا ذکر کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حقیقی مؤثر اور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جائے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ

ترجمہ: ’’اور اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔‘‘

(سورۃ المائدۃ: 35)

لہٰذا اگر کوئی شخص یوں دعا کرے: ’’اے اللہ! اپنے نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے میری دعا قبول فرما‘‘ تو اصل دعا اللہ تعالیٰ ہی سے ہے اور وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی قبولیت کا ایک ذریعہ سمجھا گیا ہے۔

البتہ کسی غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کی طرح مستقل بالذات مؤثر، مالکِ حقیقی یا حاجت روا سمجھنا درست نہیں۔

حوالہ:

القرآن الکریم، سورۃ المائدۃ: 35؛ شرح العقائد النسفیہ؛ رد المحتار۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

  1. مفتی سید محمد عالم مداری 

نزِّلها PDF مشاركة

ذات صلة

مواد أخرى في الموضوع نفسه.

عرض الكل
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت ur

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 أغسطس 2026 MAM025 اقرأ
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو ur

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 أغسطس 2026 اقرأ
03
قضا نماز
قضا نماز ur

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

29 أغسطس 2026 اقرأ
سؤال