← Back to the entry In the print dialog, choose “Save as PDF” as the destination.

Mufti Syed Mohammad Alam Madari

Hafiz-e-Qur'an · Qari · Alim · Mufti · PhD in Hadith

Makanpur Shareef, Kanpur Nagar, Uttar Pradesh, India

Fatawa

Reference no.
MAM014
Published
29 August 2026
Topic
توسل کا حکم
Original language
اردو

توسل کا حکم

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام اور صالحین کے وسیلے کا ذکر کرنا شرعاً جائز ہے،

فتویٰ نمبر: 13 — توسل کا حکم

استفتاء:

کیا نیک بندوں کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

جی ہاں، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام اور صالحین کے وسیلے کا ذکر کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حقیقی مؤثر اور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جائے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ

ترجمہ: ’’اور اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔‘‘

(سورۃ المائدۃ: 35)

لہٰذا اگر کوئی شخص یوں دعا کرے: ’’اے اللہ! اپنے نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے میری دعا قبول فرما‘‘ تو اصل دعا اللہ تعالیٰ ہی سے ہے اور وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی قبولیت کا ایک ذریعہ سمجھا گیا ہے۔

البتہ کسی غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کی طرح مستقل بالذات مؤثر، مالکِ حقیقی یا حاجت روا سمجھنا درست نہیں۔

حوالہ:

القرآن الکریم، سورۃ المائدۃ: 35؛ شرح العقائد النسفیہ؛ رد المحتار۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

  1. مفتی سید محمد عالم مداری