یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
جماعت کی نماز
فتویٰ نمبر: 31 — جماعت کی نماز
استفتاء:
کیا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
بالغ، عاقل اور قدرت رکھنے والے مرد کے لیے پانچوں فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اور بلا عذر جماعت چھوڑنے کی عادت درست نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جماعت کی نماز کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو جماعت سے پیچھے رہتے تھے، ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی۔
(صحیح مسلم، کتاب المساجد)
لہٰذا مردوں کو چاہیے کہ مسجد میں باجماعت نماز کی پابندی کریں۔ البتہ شرعی عذر کی صورت میں جماعت چھوڑنے کی گنجائش ہے۔
حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب المساجد؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے