حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
جماعت کی نماز
فتویٰ نمبر: 31 — جماعت کی نماز
استفتاء:
کیا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
بالغ، عاقل اور قدرت رکھنے والے مرد کے لیے پانچوں فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اور بلا عذر جماعت چھوڑنے کی عادت درست نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جماعت کی نماز کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو جماعت سے پیچھے رہتے تھے، ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی۔
(صحیح مسلم، کتاب المساجد)
لہٰذا مردوں کو چاہیے کہ مسجد میں باجماعت نماز کی پابندی کریں۔ البتہ شرعی عذر کی صورت میں جماعت چھوڑنے کی گنجائش ہے۔
حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب المساجد؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔