میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت

This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.

فتویٰ نمبر: 491


موضوع: میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت


استفتاء


کیا نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکرِ ولادت و سیرت، درود و سلام اور صدقہ و خیرات پر مشتمل مجلس منعقد کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا اسے بدعت یا ناجائز کہنا درست ہے؟


الجواب وبالله التوفيق


نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


«قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا»


“فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔”


(القرآن، سورۃ یونس: 58)


اگرچہ آیت میں لفظاً میلاد کا ذکر نہیں، لیکن نبی کریم ﷺ خود اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


«وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ»


“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔”


(القرآن، سورۃ الأنبیاء: 107)


لہٰذا آپ ﷺ کی تشریف آوری کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر خوشی کا اظہار کرنا قرآن کے عمومی اصول کے تحت آتا ہے۔


ولادتِ نبوی ﷺ کے دن عبادت کرنے کی اصل


حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:


«ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ»


“یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔”


(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة أيام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس)


یہ حدیث نہایت اہم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پیر کے دن روزہ رکھنے کی ایک وجہ خود اپنی ولادتِ باسعادت بیان فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو ایک عبادت کے ساتھ نسبت دے کر اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی۔


البتہ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ حدیث میں سالانہ میلاد کی کسی مخصوص مجلس کا حکم نہیں دیا گیا۔ لہٰذا موجودہ زمانے کی مجلس کو بعینہٖ سنتِ نبوی کہنا درست نہیں؛ بلکہ اس کے اندر کیے جانے والے اعمال کو ان کی اپنی شرعی حیثیت کے مطابق دیکھا جائے گا۔


محفلِ میلاد میں کیا چیزیں جائز ہیں؟


اگر کسی مجلس میں:


- قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے،

- رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور سیرت بیان کی جائے،

- درود و سلام پڑھا جائے،

- آپ ﷺ کے فضائل بیان کیے جائیں،

- اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے،

- صدقہ و خیرات کیا جائے،


اور ان کے ساتھ کوئی خلافِ شرع عمل نہ ہو تو ان نیک اعمال کو صرف اس وجہ سے ناجائز نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں میلاد کی مجلس میں جمع کیا گیا ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


«مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ»


“جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا اجر بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے۔”


(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث 1017)


اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص شریعت میں نئی فرض یا واجب عبادت ایجاد کرسکتا ہے، بلکہ اس کا تعلق ایسے نیک کام کو زندہ کرنے یا جاری کرنے سے ہے جس کی اصل شریعت میں موجود ہو۔


کیا 12 ربیع الاول کو میلاد منانا سنتِ ثابتہ ہے؟


یہاں اصلِ میلاد اور تاریخ کی تعیین میں فرق کرنا ضروری ہے۔


رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر اور آپ ﷺ کی نعمتِ رسالت پر خوشی کا اظہار جائز ہے، لیکن 12 ربیع الاول کو سالانہ میلاد منانے کی مخصوص ہیئت نبی کریم ﷺ یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بطورِ سالانہ مذہبی اجتماع ثابت نہیں۔


لہٰذا کسی شخص کو یہ عقیدہ نہیں رکھنا چاہیے کہ 12 ربیع الاول کو میلاد کی مجلس منعقد کرنا فرض یا واجب ہے۔


دوسری طرف محض اس بنیاد پر کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی موجودہ صورت میں سالانہ محفل منعقد نہیں کی، قرآن، سیرت، درود اور صدقہ جیسے مباح و نیک اعمال پر مشتمل ہر مجلس کو مطلقاً حرام قرار دینا بھی درست نہیں؛ بلکہ مجلس میں شامل ہر عمل کو شریعت کے اصولوں کے مطابق پرکھا جائے گا۔


میلاد میں ناجائز امور کی آمیزش


اگر کسی مجلس میں جھوٹے واقعات، بے پردگی، مرد و زن کا غیر شرعی اختلاط، لہو و لعب، موسیقی یا شریعت کے کسی دوسرے ممنوع امر کا ارتکاب ہو تو وہ کام ناجائز ہوگا۔


اسی طرح نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ میں غلو کرنا بھی درست نہیں۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے ارشادات اور شریعت کی حدود کی پابندی کی جائے۔


حنفی فقہاء کا اصول


فقہائے احناف نے نیکی کے مختلف اعمال کو ایک مجلس میں جمع کرنے کو محض اجتماع کی وجہ سے ممنوع قرار نہیں دیا، بلکہ اصل اعتبار سے اس عمل کی شرعی حیثیت دیکھی ہے۔


علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے رد المحتار میں مباح اور مستحسن اجتماعات کے متعلق اصولی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی عمل کو محض عرفی اجتماع یا تخصیص کی وجہ سے حرام قرار دینے کے لیے شرعی دلیل ضروری ہے۔


(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، مباحث البدعة)


فیصلہ


لہٰذا شرعی اصول کی روشنی میں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے عنوان سے ایسی مجلس جس میں قرآن، ذکر، درود و سلام، سیرتِ نبوی ﷺ کا بیان، صدقہ اور دیگر جائز اعمال ہوں، اور اس میں کوئی خلافِ شرع امر نہ ہو، اسے مطلقاً ناجائز کہنا درست نہیں۔


البتہ اسے فرض، واجب یا سنتِ مؤکدہ کی مقررہ سالانہ ہیئت سمجھنا بھی درست نہیں۔


پس صحیح اور متوازن بات یہ ہے کہ اصلِ ذکرِ ولادت و سیرت اور اظہارِ فرح و شکر جائز ہے، جبکہ طریقۂ انعقاد میں شریعت کی حدود کی پابندی ضروری ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


مفتی سید محمد عالم مداری

Download as PDF Share

Related

Other entries on the same topic.

View all
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق ur

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 September 2026 MAM0052 Read
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟ ur

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 September 2026 MAM0051 Read
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ ur

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 September 2026 MAM0050 Read
Ask