حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
وضو کے فرائض
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر: 17 — وضو کے فرائض
استفتاء:
وضو میں کتنے فرائض ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
وضو کے چار فرض ہیں:
پورا چہرہ ایک مرتبہ دھونا۔
دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت ایک مرتبہ دھونا۔
سر کے چوتھائی حصے کا مسح کرنا۔
دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت ایک مرتبہ دھونا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
ترجمہ: ’’اپنے چہرے دھوؤ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھوؤ، اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوؤ۔‘‘
(سورۃ المائدۃ: 6)
ان چاروں میں سے کسی ایک فرض کو بھی چھوڑ دیا جائے تو وضو درست نہیں ہوگا۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ المائدۃ: 6؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ الہدایہ، کتاب الطہارت۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔