حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
وضو توڑنے والی چیزیں
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر: 18 — وضو توڑنے والی چیزیں
استفتاء:
کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
مندرجہ ذیل امور سے وضو ٹوٹ جاتا ہے:
پیشاب، پاخانہ یا ریح خارج ہونا۔
جسم کے کسی حصے سے خون یا پیپ نکل کر اپنی جگہ سے بہہ جانا۔
منہ بھر کر قے ہونا۔
لیٹ کر یا ٹیک لگا کر ایسی نیند سونا کہ جسم پر قابو باقی نہ رہے۔
بے ہوشی، جنون یا نشہ کی وجہ سے عقل زائل ہونا۔
رکوع و سجدہ والی نماز میں بالغ شخص کا اتنی آواز سے قہقہہ لگانا کہ پاس کھڑا شخص سن سکے؛ اس سے نماز اور وضو دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الطہارت؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ رد المحتار، کتاب الطہارت۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔