ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.

فتویٰ نمبر: 490

موضوع: ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

استفتاء

اگر شوہر ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی سے کہے: “میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں” یا تین مرتبہ “طلاق” کہہ دے، تو کیا تینوں طلاقیں واقع ہوں گی یا صرف ایک؟

الجواب وبالله التوفيق

اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں اور تینوں طلاق دینے کا قصد اور الفاظ واضح ہوں، تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔ محض یہ بات کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی گئی ہیں، انہیں ایک طلاق نہیں بناتی۔

البتہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت اور گناہ کا کام ہے۔ گناہ کا ہونا اپنی جگہ، اور طلاق کا واقع ہونا اپنی جگہ الگ حکم ہے۔

قرآنِ کریم سے دلیل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ

“طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روکنا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کرنا ہے۔”

(سورۃ البقرۃ: 229)

اس کے بعد فرمایا:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ

“پھر اگر شوہر نے اسے (تیسری) طلاق دے دی تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔”

(سورۃ البقرۃ: 230)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تین طلاقوں کے مکمل ہوجانے کے بعد سابق شوہر کے لیے عورت حلال نہیں رہتی۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا تھا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے طلاق میں جلد بازی کرنے کو دیکھ کر اسے ان پر نافذ کردیا۔

(صحیح مسلم، کتاب الطلاق)

یہ حدیث اس مسئلے میں اختلاف کی بنیادی دلیل ہے۔

پھر حنفیہ تین طلاق کیوں مانتے ہیں؟

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں کی طرف سے طلاق کے معاملے میں کثرت سے جلد بازی دیکھی تو تین کو نافذ فرمایا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فیصلے کو قبول کیا اور بعد میں یہی حکم فقہائے امت کے ہاں مستقر ہوگیا۔

مزید یہ کہ طلاق کے الفاظ اگر شرعاً تین طلاق پر دلالت کریں تو محض اس وجہ سے کہ وہ ایک مجلس میں ادا ہوئے، ہر طلاق کو بے اثر قرار دینا درست نہیں۔

اسی لیے احناف کے نزدیک اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں تین طلاقیں دیں تو تینوں واقع ہوجاتی ہیں۔

ایک اہم وضاحت

یہاں دو الگ باتیں ہیں:

پہلی: ایک مجلس میں تین طلاق دینا طریقۂ سنت کے خلاف اور گناہ ہے۔

دوسری: گناہ کے باوجود اگر صریح تین طلاقیں دی گئیں تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ غصے کی حالت میں بھی طلاق کے الفاظ زبان سے نہ نکالیں، کیونکہ بعد میں انتہائی سنگین شرعی نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔

فقہی مراجع

امام کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک لفظ میں یا متعدد الفاظ میں تین طلاقیں دیں تو تینوں واقع ہوتی ہیں۔

(بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، فصل في الطلاق المتعدد)

اسی طرح الہدایہ اور رد المحتار میں ایک مجلس کی متعدد طلاقوں کے وقوع کی تفصیل مذکور ہے۔

الہدایہ، کتاب الطلاق

بدائع الصنائع، کتاب الطلاق

المبسوط للسرخسی، کتاب الطلاق

رد المحتار، کتاب الطلاق

صحیح مسلم، کتاب الطلاق

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

Download as PDF Share

Related

Other entries on the same topic.

View all
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق ur

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 September 2026 MAM0052 Read
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟ ur

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 September 2026 MAM0051 Read
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ ur

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 September 2026 MAM0050 Read
Ask