Mufti Syed Mohammad Alam Madari
Hafiz-e-Qur'an · Qari · Alim · Mufti · PhD in Hadith
Makanpur Shareef, Kanpur Nagar, Uttar Pradesh, India
Fatawa
- Reference no.
- MAM0041
- Published
- 2 September 2026
- Topic
- ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم
- Original language
- اردو
ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم
اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں اور تینوں طلاق دینے کا قصد اور الفاظ واضح ہوں، تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔ محض یہ بات کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی گئی ہیں، انہیں ایک طلاق نہیں بناتی۔
فتویٰ نمبر: 490
موضوع: ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم
استفتاء
اگر شوہر ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی سے کہے: “میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں” یا تین مرتبہ “طلاق” کہہ دے، تو کیا تینوں طلاقیں واقع ہوں گی یا صرف ایک؟
الجواب وبالله التوفيق
اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں اور تینوں طلاق دینے کا قصد اور الفاظ واضح ہوں، تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔ محض یہ بات کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس میں دی گئی ہیں، انہیں ایک طلاق نہیں بناتی۔
البتہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت اور گناہ کا کام ہے۔ گناہ کا ہونا اپنی جگہ، اور طلاق کا واقع ہونا اپنی جگہ الگ حکم ہے۔
قرآنِ کریم سے دلیل
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
“طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روکنا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کرنا ہے۔”
(سورۃ البقرۃ: 229)
اس کے بعد فرمایا:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
“پھر اگر شوہر نے اسے (تیسری) طلاق دے دی تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔”
(سورۃ البقرۃ: 230)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تین طلاقوں کے مکمل ہوجانے کے بعد سابق شوہر کے لیے عورت حلال نہیں رہتی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا تھا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے طلاق میں جلد بازی کرنے کو دیکھ کر اسے ان پر نافذ کردیا۔
(صحیح مسلم، کتاب الطلاق)
یہ حدیث اس مسئلے میں اختلاف کی بنیادی دلیل ہے۔
پھر حنفیہ تین طلاق کیوں مانتے ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں کی طرف سے طلاق کے معاملے میں کثرت سے جلد بازی دیکھی تو تین کو نافذ فرمایا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فیصلے کو قبول کیا اور بعد میں یہی حکم فقہائے امت کے ہاں مستقر ہوگیا۔
مزید یہ کہ طلاق کے الفاظ اگر شرعاً تین طلاق پر دلالت کریں تو محض اس وجہ سے کہ وہ ایک مجلس میں ادا ہوئے، ہر طلاق کو بے اثر قرار دینا درست نہیں۔
اسی لیے احناف کے نزدیک اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں تین طلاقیں دیں تو تینوں واقع ہوجاتی ہیں۔
ایک اہم وضاحت
یہاں دو الگ باتیں ہیں:
پہلی: ایک مجلس میں تین طلاق دینا طریقۂ سنت کے خلاف اور گناہ ہے۔
دوسری: گناہ کے باوجود اگر صریح تین طلاقیں دی گئیں تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ غصے کی حالت میں بھی طلاق کے الفاظ زبان سے نہ نکالیں، کیونکہ بعد میں انتہائی سنگین شرعی نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔
فقہی مراجع
امام کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک لفظ میں یا متعدد الفاظ میں تین طلاقیں دیں تو تینوں واقع ہوتی ہیں۔
(بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، فصل في الطلاق المتعدد)
اسی طرح الہدایہ اور رد المحتار میں ایک مجلس کی متعدد طلاقوں کے وقوع کی تفصیل مذکور ہے۔
الہدایہ، کتاب الطلاق
بدائع الصنائع، کتاب الطلاق
المبسوط للسرخسی، کتاب الطلاق
رد المحتار، کتاب الطلاق
صحیح مسلم، کتاب الطلاق
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری