حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
جمعہ کی نماز
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر: 33 — جمعہ کی نماز
استفتاء:
جمعہ کی نماز کس پر فرض ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جمعہ کی نماز ہر بالغ، عاقل، آزاد، مقیم اور تندرست مسلمان مرد پر فرض ہے، بشرطیکہ شرعی عذر نہ ہو۔ عورت، مسافر اور ایسا مریض جس کے لیے مسجد جانا دشوار ہو، ان پر جمعہ فرض نہیں؛ وہ ظہر کی نماز ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘
(سورۃ الجمعۃ: 9)
لہٰذا جس شخص پر جمعہ فرض ہو، اس کے لیے بلا عذر جمعہ چھوڑنا جائز نہیں۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ الجمعۃ: 9؛ الہدایہ، کتاب الجمعۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔