یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
جمعہ کی نماز
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر: 33 — جمعہ کی نماز
استفتاء:
جمعہ کی نماز کس پر فرض ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جمعہ کی نماز ہر بالغ، عاقل، آزاد، مقیم اور تندرست مسلمان مرد پر فرض ہے، بشرطیکہ شرعی عذر نہ ہو۔ عورت، مسافر اور ایسا مریض جس کے لیے مسجد جانا دشوار ہو، ان پر جمعہ فرض نہیں؛ وہ ظہر کی نماز ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘
(سورۃ الجمعۃ: 9)
لہٰذا جس شخص پر جمعہ فرض ہو، اس کے لیے بلا عذر جمعہ چھوڑنا جائز نہیں۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ الجمعۃ: 9؛ الہدایہ، کتاب الجمعۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے