تقدیر پر ایمان لانا ضروریاتِ ایمان میں سے ہے۔
ایمان اور اسلام
یہ تحریر Urdu میں ہے۔ جہاں دستیاب ہو، ترجمہ شدہ خلاصہ دکھایا گیا ہے۔
فتویٰ نمبر: 1 — ایمان اور اسلام
استفتاء:
اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
اسلام سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام کو ظاہراً قبول کرنا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنا ہے، جبکہ ایمان سے مراد دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بیان کردہ تمام ضروریاتِ دین کی تصدیق کرنا ہے۔
ایمان کے بنیادی ارکان یہ ہیں: اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، قیامت کے دن اور تقدیر کے اچھے برے ہونے پر ایمان لانا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ
(البقرۃ: 177)
اور حدیثِ جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان اور اسلام دونوں کی وضاحت فرمائی ہے۔
لہٰذا اسلام ظاہری اعمال و اطاعت کا نام ہے اور ایمان باطنی تصدیق کا، اگرچہ شریعت میں دونوں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ، آیت 177؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان؛ شرح العقائد النسفیہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے
فرشتوں کے وجود اور ان کے بارے میں قرآن و سنت سے ثابت شدہ امور پر ایمان لانا ضروریاتِ ایمان میں سے ہے