حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
آسمانی کتابوں پر ایمان
فتویٰ نمبر: 6 — آسمانی کتابوں پر ایمان
استفتاء:
کیا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ مسلمان اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام پر ہدایت کے لیے کتابیں نازل فرمائیں، مثلاً تورات، زبور، انجیل اور قرآنِ کریم۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
كُلٌّ آمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ
ترجمہ: ’’سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔‘‘
(البقرۃ: 285)
البتہ موجودہ زمانے میں قرآنِ کریم ہی اللہ تعالیٰ کی محفوظ اور آخری کتاب ہے اور قیامت تک تمام انسانوں کے لیے اسی کی اتباع لازم ہے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ: 285؛ سورۃ المائدۃ: 48؛ شرح العقائد النسفیہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔