حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
وتر کی نماز
فتویٰ نمبر: 34 — وتر کی نماز
استفتاء:
وتر کی نماز کا کیا حکم ہے اور کتنی رکعت ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
وتر کی نماز واجب ہے اور اس کی تین رکعتیں ہیں۔ اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبحِ صادق تک رہتا ہے۔
تینوں رکعتیں ایک ہی سلام سے ادا کی جاتی ہیں۔ تیسری رکعت میں قراءت کے بعد تکبیرِ قنوت کہہ کر دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے۔
حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللّٰهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ الْوِتْرُ»
ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز عطا فرمائی ہے، وہ وتر ہے۔‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الوتر؛ جامع الترمذی، ابواب الوتر)
لہٰذا وتر کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے جان بوجھ کر چھوڑنے سے بچنا لازم ہے۔
حوالہ:
سنن ابی داؤد، کتاب الوتر؛ جامع الترمذی، ابواب الوتر؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔