← اندراج پر واپس پرنٹ ونڈو میں ڈیسٹینیشن میں ”Save as PDF“ منتخب کیجیے۔

مفتی سید محمد عالم مداری

حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)

مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت

فتاویٰ

حوالہ نمبر
MAM0034
اشاعت
2 ستمبر، 2026
موضوع
وتر کی نماز
اصل زبان
اردو

وتر کی نماز

کی نماز واجب ہے اور اس کی تین رکعتیں ہیں۔ اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبحِ صادق تک رہتا ہے۔

فتویٰ نمبر: 34 — وتر کی نماز

استفتاء:

وتر کی نماز کا کیا حکم ہے اور کتنی رکعت ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

وتر کی نماز واجب ہے اور اس کی تین رکعتیں ہیں۔ اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبحِ صادق تک رہتا ہے۔

تینوں رکعتیں ایک ہی سلام سے ادا کی جاتی ہیں۔ تیسری رکعت میں قراءت کے بعد تکبیرِ قنوت کہہ کر دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے۔

حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللّٰهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ الْوِتْرُ»

ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز عطا فرمائی ہے، وہ وتر ہے۔‘‘

(سنن ابی داؤد، کتاب الوتر؛ جامع الترمذی، ابواب الوتر)

لہٰذا وتر کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے جان بوجھ کر چھوڑنے سے بچنا لازم ہے۔

حوالہ:

سنن ابی داؤد، کتاب الوتر؛ جامع الترمذی، ابواب الوتر؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری