یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
وتر کی نماز
यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।
فتویٰ نمبر: 34 — وتر کی نماز
استفتاء:
وتر کی نماز کا کیا حکم ہے اور کتنی رکعت ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
وتر کی نماز واجب ہے اور اس کی تین رکعتیں ہیں۔ اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبحِ صادق تک رہتا ہے۔
تینوں رکعتیں ایک ہی سلام سے ادا کی جاتی ہیں۔ تیسری رکعت میں قراءت کے بعد تکبیرِ قنوت کہہ کر دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے۔
حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللّٰهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ الْوِتْرُ»
ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز عطا فرمائی ہے، وہ وتر ہے۔‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الوتر؛ جامع الترمذی، ابواب الوتر)
لہٰذا وتر کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے جان بوجھ کر چھوڑنے سے بچنا لازم ہے۔
حوالہ:
سنن ابی داؤد، کتاب الوتر؛ جامع الترمذی، ابواب الوتر؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
संबंधित
इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے