سفر میں نماز قصر کرنا اور جمع کرنا

سوال پوچھیے

میں ہفتے میں تین دن کام کے سلسلے میں سفر کرتا ہوں، اکثر ایک طرف کا فاصلہ 300 سے 400 کلومیٹر ہوتا ہے۔ کیا مجھے نماز قصر کرنی چاہیے، اور کیا میں راستے میں ظہر اور عصر جمع کر سکتا ہوں جبکہ رکنا ممکن نہ ہو؟

خلاصۂ حکم

جب آپ اپنے شہر کی آبادی سے تقریباً 77 تا 78 کلومیٹر یا اس سے زیادہ سفر کی نیت سے نکل جائیں تو آپ مسافر ہو گئے۔ اس وقت سے واپسی تک، یا جب تک کسی ایک جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کر لیں، ظہر، عصر اور عشاء چار کے بجائے دو رکعت پڑھیں گے۔ فجر اور مغرب میں قصر نہیں۔

حنفی مذہب میں قصر اختیاری نہیں۔ یہ مسافر کے لیے نماز کی مقررہ صورت ہے، کوئی رعایت نہیں جسے چاہیں تو چھوڑ دیں۔

دو نمازوں کو جمع کرنا

ظہر اور عصر کو ایک وقت میں ملا کر پڑھنا حنفی مذہب میں صرف حجّ کے دوران عرفہ اور مزدلفہ میں جائز ہے۔ ان دو مقامات کے علاوہ ہر نماز اپنے وقت میں پڑھی جائے گی۔

آپ کے لیے جو صورت موجود ہے وہ جمعِ صوری ہے: ظہر کو اس کے وقت کے بالکل آخر تک مؤخر کر کے پڑھیں، پھر عصر کو اس کے وقت کے بالکل شروع میں ادا کریں۔ دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت کے اندر رہتی ہیں، مگر عملاً آپ کو دو بار کے بجائے ایک بار رکنا پڑتا ہے۔

راستے میں کیا کریں

  • اپنے راستے کے لیے ظہر کے ختم اور عصر کے شروع ہونے کا وقت معلوم کر لیں۔
  • جہاں محفوظ طریقے سے رک سکیں، زمین پر نماز پڑھ لیں۔ پاک زمین پر ایک صاف چٹائی کافی ہے۔
  • اگر واقعی رکنا ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر، حتیٰ الامکان قبلہ رخ ہو کر پڑھ لیں، مگر نماز نہ چھوڑیں۔
  • قضا نماز اُسی صورت میں ادا ہوگی جس صورت میں فوت ہوئی تھی: سفر میں چھوٹی ہوئی نماز گھر پہنچ کر بھی دو رکعت ہی پڑھی جائے گی۔

واللہ اعلم بالصواب۔

combining-prayers-while-travelling.pdf ڈاؤن لوڈ آن لائن پڑھیے

آپ کا براؤزر یہاں پی ڈی ایف نہیں دکھا سکتا۔ اسے نئے ٹیب میں کھولیے۔

پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں شیئر
سوال