حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
اولیائے کرام رحمہم اللہ
यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।
فتویٰ نمبر: 11 — اولیائے کرام رحمہم اللہ
استفتاء:
کیا اولیائے کرام سے محبت اور ان کا ادب کرنا شرعاً جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندوں سے محبت کرنا اور ان کا ادب و احترام کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے۔ ولی وہ مسلمان ہے جو ایمان اور تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
ترجمہ: ’’سن لو! بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔‘‘
(سورۃ یونس: 62-63)
لہٰذا اولیائے کرام سے محبت رکھنا درست ہے، لیکن عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کی جائے اور کسی ولی کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شریک نہ سمجھا جائے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ یونس: 62-63؛ صحیح البخاری، کتاب الرقاق؛ شرح العقائد النسفیہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
संबंधित
इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔