قیامت اور آخرت پر ایمان لانا ضروریاتِ ایمان میں سے ہے
اولیائے کرام رحمہم اللہ
یہ تحریر Urdu میں ہے۔ جہاں دستیاب ہو، ترجمہ شدہ خلاصہ دکھایا گیا ہے۔
فتویٰ نمبر: 11 — اولیائے کرام رحمہم اللہ
استفتاء:
کیا اولیائے کرام سے محبت اور ان کا ادب کرنا شرعاً جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندوں سے محبت کرنا اور ان کا ادب و احترام کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے۔ ولی وہ مسلمان ہے جو ایمان اور تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
ترجمہ: ’’سن لو! بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔‘‘
(سورۃ یونس: 62-63)
لہٰذا اولیائے کرام سے محبت رکھنا درست ہے، لیکن عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کی جائے اور کسی ولی کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شریک نہ سمجھا جائے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ یونس: 62-63؛ صحیح البخاری، کتاب الرقاق؛ شرح العقائد النسفیہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،