حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
نماز کے واجبات
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر: 24 — نماز کے واجبات
استفتاء:
نماز کے واجبات کون کون سے ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
نماز کے متعدد واجبات ہیں، جن میں اہم یہ ہیں:
فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرنا۔
سورۂ فاتحہ پڑھنا۔
سورۂ فاتحہ کے بعد سورت یا کم از کم ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات پڑھنا۔
قراءت، رکوع اور سجدوں کی ترتیب کا خیال رکھنا۔
رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا۔
دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔
قعدۂ اولیٰ کرنا۔
دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا۔
نماز کے افعال میں اطمینان کے ساتھ ادائیگی کرنا۔
وتر میں دعائے قنوت پڑھنا۔
عیدین کی نماز میں زائد تکبیریں کہنا۔
اگر کوئی واجب بھول کر چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، اور اگر جان بوجھ کر واجب چھوڑا جائے تو گناہ ہوگا اور نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔