اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
کیا ایک ہی امامِ فقہ کی تقلید ضروری ہے؟
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر 497
کیا ایک ہی امامِ فقہ کی تقلید ضروری ہے؟
استفتاء:
کیا عام مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی امامِ فقہ، مثلاً امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، کی تقلید کرے؟ یا مختلف مسائل میں کبھی کسی دوسرے معتبر امام کے قول پر بھی عمل کرسکتا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
یہ مسئلہ تقلیدِ شخصی کے نام سے معروف ہے اور فقہاء کے درمیان اس کی تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس مسئلے میں اعتدال ضروری ہے؛ نہ ہر شخص کو اپنی خواہش کے مطابق علماء کے اقوال چنتے پھرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ معتبر فقہی مذاہب کے اختلاف کو باطل کہا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
“اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔”
(سورۃ النحل: 43)»
عام آدمی جب قرآن و حدیث سے براہِ راست شرعی احکام اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کے لیے اہلِ علم سے مسئلہ دریافت کرنا قرآن کے اسی حکم کے مطابق ہے۔
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ایک شخص کے زخمی ہونے کے بعد غسل کے بارے میں صحابہ سے مسئلہ پوچھنے اور غلط فتویٰ دیے جانے کا واقعہ آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ
“جب انہیں علم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا؟ بے علمی کا علاج سوال کرنا ہے۔”
(سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ)»
اس سے معلوم ہوا کہ ناواقف شخص کا اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا شرعی طریقہ ہے۔
ایک ہی امام کی پابندی کیوں؟
حنفی فقہاء نے عملی طور پر ایک منظم فقہی مذہب کی پیروی کو اختیار کرنے کی بڑی وجہ یہ بیان کی ہے کہ عام آدمی کے لیے ہر مسئلے میں مختلف اقوال تلاش کرکے اپنی پسند کے مطابق عمل کرنا شریعت کی پیروی کے بجائے تتبعِ رخص کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
رد المحتار میں تقلید اور مختلف اقوال کے اختیار کرنے سے متعلق تفصیلی بحث موجود ہے۔ فقہاء نے اس بات سے روکا ہے کہ آدمی محض اپنی خواہش کی وجہ سے ہر مسئلے میں آسان ترین قول تلاش کرتا پھرے۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کسی معتبر مجتہد کے قول پر عمل کرنے والا لازماً گناہ گار یا مذہب سے خارج ہوجاتا ہے۔ ائمۂ اربعہ کے درمیان بہت سے مسائل میں اجتہادی اختلاف ہے، اور ہر امام نے قرآن و سنت اور اصولِ اجتہاد کی روشنی میں اپنا موقف قائم کیا ہے۔
کیا ضرورت کے وقت دوسرے امام کے قول پر عمل ہوسکتا ہے؟
اگر کسی معتبر عالم کی رہنمائی میں حقیقی ضرورت پیش آئے اور دوسرے معتبر امام کے قول پر عمل کرنے کی شرعی وجہ موجود ہو تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ لیکن صرف اس لیے کہ کسی دوسرے مذہب میں حکم آسان ہے، ہر مسئلے میں اپنی پسند کا قول لینا درست طریقہ نہیں۔
اسی طرح ایک ہی مسئلے میں مختلف مذاہب کے احکام کو اس انداز سے جمع کرنا کہ نتیجہ کسی بھی امام کے نزدیک صحیح نہ رہے، فقہاء کے نزدیک قابلِ مذمت ہے۔ اسے عام طور پر تلفیق کے مباحث میں ذکر کیا جاتا ہے، اور اس کی تفصیلات فقہی کتب میں موجود ہیں۔
کیا حنفی شخص ہر مسئلے میں حنفی قول ہی پر عمل کرے؟
عام حالات میں جو شخص حنفی مذہب کی پیروی کرتا ہے، اس کے لیے اسی مذہب کے معتبر مفتی اور علماء سے مسائل دریافت کرکے عمل کرنا زیادہ منظم اور محفوظ طریقہ ہے۔ البتہ کسی معتبر شرعی ضرورت، قوی دلیل یا اہلِ فتویٰ کی رہنمائی کی صورت میں دوسرے معتبر قول پر عمل کی تفصیل الگ سے دیکھی جائے گی۔
لہٰذا تقلید کا مقصد ائمہ کو اللہ تعالیٰ کے مقابل مستقل شارع ماننا نہیں بلکہ قرآن و سنت سے احکام اخذ کرنے کے لیے ماہر مجتہد کی علمی رہنمائی اختیار کرنا ہے۔
حکم:
عام مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرعی مسائل میں معتبر اہلِ علم کی طرف رجوع کرے۔ کسی منظم فقہی مذہب کی پابندی اسے انتشار اور خواہشِ نفس کے مطابق اقوال چننے سے محفوظ رکھتی ہے۔ حنفی شخص کے لیے عام حالات میں حنفی علماء اور حنفی فقہی اصول کے مطابق عمل کرنا مناسب اور محتاط طریقہ ہے؛ البتہ معتبر شرعی ضرورت میں دوسرے امام کے قول پر عمل کی گنجائش کی تفصیلات اہلِ فتویٰ سے معلوم کی جائیں گی۔
لہٰذا نہ یہ کہنا درست ہے کہ ہر شخص خود قرآن و حدیث دیکھ کر بغیر فقہی اصول کے فتویٰ دے سکتا ہے، اور نہ یہ کہ ائمۂ اربعہ کے درمیان ہر اختلاف باطل ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ غیر مجتہد اہلِ علم سے رہنمائی لے اور خواہشِ نفس کے بجائے دلیل و شرعی ضرورت کو معیار بنائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔
رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین کا مسئلہ ائمۂ مجتہدین کے درمیان قدیم اختلافی مسئلہ ہے۔ اس اختلاف کو سمجھتے ہوئے کسی فریق کی نماز کو باطل یا غیر صحیح قرار دینا درست نہیں، کیونکہ دونوں جانب احادیث اور آثار سے استدلال کیا گیا ہے۔