ایصالِ ثوابِ قرآن اور فاتحہ

This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.

فتویٰ نمبر: 481

موضوع: ایصالِ ثوابِ قرآن اور فاتحہ

استفتاء:

کیا قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر یا صدقہ کرکے اس کا ثواب کسی فوت شدہ مسلمان کو پہنچایا جا سکتا ہے؟ اور کیا اس کے لیے مخصوص مجلس یا فاتحہ ضروری ہے؟

الجواب وبالله التوفيق

کسی نیک عمل کا ثواب اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے کسی مسلمان میت کو پہنچانا جائز ہے، اور اس کے جواز کی اصل قرآن، حدیث اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ

“اور جو لوگ ان کے بعد آئے، وہ دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔”

(سورۃ الحشر: 10)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ بعد کے مسلمان پہلے گزرنے والے اہلِ ایمان کے لیے دعا اور مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کو پسند فرمایا۔

احادیثِ مبارکہ سے دلیل

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: میری والدہ اچانک فوت ہوگئیں، میرا خیال ہے کہ اگر انہیں موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

نَعَمْ

“ہاں۔”

(صحیح البخاری، کتاب الوصایا؛ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ)

یہ حدیث واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ زندہ شخص کا نیک عمل میت کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اسی طرح حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کی طرف سے صدقہ کرنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی۔

(صحیح البخاری، کتاب الوصایا)

قرآن پڑھ کر ثواب پہنچانے کا حکم

دعا، صدقہ اور حج وغیرہ کے ثواب کے میت کو پہنچنے کے بارے میں صریح احادیث موجود ہیں۔ قرآنِ کریم کی تلاوت بھی ایک نیک عبادت ہے، لہٰذا حنفی فقہاء کے نزدیک تلاوت کرکے اس کا ثواب میت کو بخشنا جائز ہے۔

امام کاسانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آدمی اپنی نیکی کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے، اور اس میں نماز، روزہ، صدقہ، حج، تلاوتِ قرآن اور دیگر قربات شامل ہیں۔

(بدائع الصنائع، کتاب الحج، مبحث الإهداء)

علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے بھی ایصالِ ثواب کے مسئلے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے تلاوتِ قرآن اور دیگر قربات کا ثواب میت کو پہنچنے کے جواز کو ذکر کیا ہے۔

(رد المحتار، کتاب الصلاۃ، بحث القراءة عند القبور)

کیا فاتحہ کی مخصوص مجلس ضروری ہے؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے:

ایصالِ ثواب جائز ہے، لیکن کسی خاص دن، خاص تاریخ، خاص کھانے یا مخصوص طریقے کو شرعاً لازم سمجھنا الگ مسئلہ ہے۔

اگر لوگ قرآن پڑھیں، درود شریف پڑھیں، ذکر کریں، دعا کریں اور پھر اس کا ثواب اپنے مرحومین کو بخشیں تو اصلِ ایصالِ ثواب جائز ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ فلاں دن ہی فاتحہ ضروری ہے، یا فلاں مخصوص کھانا ہی دین کا لازمی حصہ ہے، یا اس کے بغیر میت کو ثواب نہیں پہنچ سکتا تو اس کے لیے شرعی دلیل درکار ہوگی۔

لہٰذا اصل ایصالِ ثواب کو ناجائز کہنا درست نہیں، اور اسی طرح اپنی طرف سے کسی غیر ثابت طریقے کو دین کا لازمی حصہ قرار دینا بھی درست نہیں۔

خلاصۂ حکم

میت کے لیے دعا اور صدقہ کرنا ثابت ہے۔

نیک اعمال کا ثواب میت کو پہنچانا جائز ہے۔

قرآنِ کریم کی تلاوت کرکے ثواب بخشنا حنفی فقہاء کے نزدیک جائز ہے۔

ایصالِ ثواب کے لیے کسی خاص مجلس یا خاص دن کو شرعاً لازم قرار دینا درست نہیں۔

اس مسئلے کو باہمی نزاع اور فرقہ وارانہ جھگڑے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

مراجع

القرآن الکریم، سورۃ الحشر: 10

صحیح البخاری، کتاب الوصایا

صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ

بدائع الصنائع، کتاب الحج، مبحث الإهداء

رد المحتار، کتاب الصلاۃ، بحث القراءة عند القبور

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

Download as PDF Share

Related

Other entries on the same topic.

View all
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق ur

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 September 2026 MAM0052 Read
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟ ur

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 September 2026 MAM0051 Read
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ ur

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 September 2026 MAM0050 Read
Ask