حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
نماز کی سنتیں
This entry is written in Urdu. A translated summary is shown where available.
فتویٰ نمبر: 25 — نماز کی سنتیں
استفتاء:
نماز کی اہم سنتیں کون سی ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
نماز میں متعدد سنتیں ہیں، جن میں اہم یہ ہیں:
تکبیرِ تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔
ہاتھ باندھنا۔
ثناء پڑھنا۔
تعوذ اور تسمیہ پڑھنا۔
رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت تکبیر کہنا۔
رکوع میں کم از کم تین مرتبہ تسبیح پڑھنا۔
سجدے میں کم از کم تین مرتبہ تسبیح پڑھنا۔
رکوع اور سجدے میں اطمینان اختیار کرنا۔
قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھنا۔
درود کے بعد مسنون دعا پڑھنا۔
دائیں اور بائیں سلام پھیرنا۔
سنتوں کی پابندی نماز کو نبی کریم ﷺ کے طریقۂ مبارک کے مطابق ادا کرنے کا ذریعہ ہے، اس لیے بلا عذر انہیں چھوڑنے سے بچنا چاہیے۔
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
Related
Other entries on the same topic.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔