یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
جماعت کی نماز
هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.
فتویٰ نمبر: 32 — امام اور مقتدی
استفتاء:
مقتدی امام کے پیچھے نماز کیسے ادا کرے؟
الجواب وبالله التوفيق:
مقتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ امام کی اقتدا کرے اور نماز کے افعال امام سے پہلے نہ کرے۔ امام جب تکبیر کہے تو مقتدی اس کے بعد تکبیر کہے، امام رکوع کرے تو مقتدی رکوع کرے اور امام سجدہ کرے تو مقتدی سجدہ کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ»
ترجمہ: ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ)
لہٰذا مقتدی کو امام سے آگے بڑھنا یا اس سے پہلے رکوع و سجدہ کرنا درست نہیں۔
حوالہ:
صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
ذات صلة
مواد أخرى في الموضوع نفسه.
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے