← عودة إلى المادة في نافذة الطباعة اختر «Save as PDF» وجهةً.

المفتي السيد محمد عالم مداري

حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث

مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند

الفتاوى

رقم المرجع
MAM0032
تاريخ النشر
2 سبتمبر 2026
الموضوع
امام اور مقتدی
اللغة الأصلية
اردو

جماعت کی نماز

مقتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ امام کی اقتدا کرے اور نماز کے افعال امام سے پہلے نہ کرے

فتویٰ نمبر: 32 — امام اور مقتدی

استفتاء:

مقتدی امام کے پیچھے نماز کیسے ادا کرے؟

الجواب وبالله التوفيق:

مقتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ امام کی اقتدا کرے اور نماز کے افعال امام سے پہلے نہ کرے۔ امام جب تکبیر کہے تو مقتدی اس کے بعد تکبیر کہے، امام رکوع کرے تو مقتدی رکوع کرے اور امام سجدہ کرے تو مقتدی سجدہ کرے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ»

ترجمہ: ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔‘‘

(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ)

لہٰذا مقتدی کو امام سے آگے بڑھنا یا اس سے پہلے رکوع و سجدہ کرنا درست نہیں۔

حوالہ:

صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری