حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
جماعت کی نماز
فتویٰ نمبر: 32 — امام اور مقتدی
استفتاء:
مقتدی امام کے پیچھے نماز کیسے ادا کرے؟
الجواب وبالله التوفيق:
مقتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ امام کی اقتدا کرے اور نماز کے افعال امام سے پہلے نہ کرے۔ امام جب تکبیر کہے تو مقتدی اس کے بعد تکبیر کہے، امام رکوع کرے تو مقتدی رکوع کرے اور امام سجدہ کرے تو مقتدی سجدہ کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ»
ترجمہ: ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ)
لہٰذا مقتدی کو امام سے آگے بڑھنا یا اس سے پہلے رکوع و سجدہ کرنا درست نہیں۔
حوالہ:
صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔