موزوں پر مسح

هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.

فتویٰ نمبر: 22 — موزوں پر مسح

استفتاء:

کیا وضو میں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

جی ہاں، شرعی شرائط کے ساتھ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔ ایسا موزہ جو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو اور شرعی معیار پر پورا اترتا ہو، اسے اتارنے کے بجائے اس کے اوپر مسح کیا جاسکتا ہے۔

مقیم کے لیے مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) ہے۔ مدت کا اعتبار موزے پہننے کے وقت سے نہیں بلکہ وضو ٹوٹنے کے بعد مسح کی مدت شروع ہونے سے ہوتا ہے۔

حوالہ:

الہدایہ، کتاب الطہارت؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ رد المحتار، کتاب الطہارت۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

نزِّلها PDF مشاركة

ذات صلة

مواد أخرى في الموضوع نفسه.

عرض الكل
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت ur

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 أغسطس 2026 MAM025 اقرأ
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو ur

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 أغسطس 2026 اقرأ
03
قضا نماز
قضا نماز ur

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

29 أغسطس 2026 اقرأ
سؤال