← عودة إلى المادة في نافذة الطباعة اختر «Save as PDF» وجهةً.

المفتي السيد محمد عالم مداري

حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث

مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند

الفتاوى

تاريخ النشر
29 أغسطس 2026
الموضوع
موزوں پر مسح
اللغة الأصلية
اردو

موزوں پر مسح

شرعی شرائط کے ساتھ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔ ایسا موزہ جو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو اور شرعی معیار پر پورا اترتا ہو، اسے اتارنے کے بجائے اس کے اوپر مسح کیا جاسکتا ہے۔

فتویٰ نمبر: 22 — موزوں پر مسح

استفتاء:

کیا وضو میں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

جی ہاں، شرعی شرائط کے ساتھ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔ ایسا موزہ جو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو اور شرعی معیار پر پورا اترتا ہو، اسے اتارنے کے بجائے اس کے اوپر مسح کیا جاسکتا ہے۔

مقیم کے لیے مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) ہے۔ مدت کا اعتبار موزے پہننے کے وقت سے نہیں بلکہ وضو ٹوٹنے کے بعد مسح کی مدت شروع ہونے سے ہوتا ہے۔

حوالہ:

الہدایہ، کتاب الطہارت؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ رد المحتار، کتاب الطہارت۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری