حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت
فتویٰ نمبر: 3 — اللہ تعالیٰ کی وحدانیت
استفتاء:
کیا اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات اور معبود ہونے میں یکتا ہے۔ عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوا کسی کو معبود ماننا یا عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا شرک ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ اللّٰهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا أَحَدٌ
ترجمہ: ’’آپ فرمادیجیے: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔‘‘
(سورۃ الاخلاص: 1-4)
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد و یکتا مانے اور عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ الاخلاص؛ شرح العقائد النسفیہ؛ العقیدۃ الطحاویہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔