آمین بالجہر یا آہستہ؟

यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।

فتویٰ نمبر: 484

موضوع: آمین بالجہر یا آہستہ؟

استفتاء

امام جب سورۂ فاتحہ مکمل کرے تو مقتدی آمین بلند آواز سے کہیں یا آہستہ؟ اس بارے میں احناف کا کیا موقف ہے؟

الجواب وبالله التوفيق

آمین کہنا سنت ہے، لیکن امام اور مقتدی اسے آہستہ آواز سے کہیں گے۔ یہی احناف کا مسلک ہے۔

آمین قرآنِ کریم کی آیت نہیں بلکہ دعا کا کلمہ ہے، جس کا معنی ہے: اے اللہ! قبول فرما۔

احادیثِ مبارکہ سے دلائل

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ

“اور آپ ﷺ نے آمین کہتے وقت اپنی آواز پست رکھی۔”

(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة)

اسی طرح حضرت ابووائل رحمہ اللہ سے روایت ہے:

كَانَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللَّهِ لَا يَجْهَرَانِ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَلَا بِآمِينَ

“حضرت علی اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بسم اللہ اور آمین بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔”

(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلاة)

آمین بالجہر کی روایات

بعض احادیث میں آمین بلند آواز سے کہنے کا ذکر بھی ملتا ہے، مثلاً حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آمین کہی اور آواز بلند کی۔

محدثین نے ان روایات کو بھی نقل کیا ہے، اسی وجہ سے جہر اور اخفاء کے درمیان فقہاء کا اختلاف پیدا ہوا۔

احناف نے مجموعی روایات، صحابۂ کرام کے آثار اور نماز کے طریقے کو سامنے رکھتے ہوئے آمین کو آہستہ کہنا اختیار کیا ہے۔

ایک اہم اصول

اس مسئلے میں دونوں طرف روایات موجود ہونے کی وجہ سے کسی ایک طریقے پر عمل کرنے والے مسلمان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا درست نہیں۔ یہ اجتہادی اختلاف ہے۔

احناف کے نزدیک بہتر اور معمول بہ طریقہ یہ ہے کہ:

امام بھی آمین آہستہ کہے اور مقتدی بھی آمین آہستہ کہے۔

مراجع

سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة

مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلاة

الہدایہ، کتاب الصلاة

بدائع الصنائع، کتاب الصلاة

المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاة

رد المحتار، کتاب الصلاة

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

PDF में डाउनलोड करें साझा करें

संबंधित

इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।

सभी देखें
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق ur

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 सितंबर 2026 MAM0052 पढ़ें
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟ ur

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 सितंबर 2026 MAM0051 पढ़ें
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ ur

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 सितंबर 2026 MAM0050 पढ़ें
सवाल