نماز میں بسم اللہ بالجہر یا آہستہ؟

यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।

فتویٰ نمبر: 487

موضوع: نماز میں بسم اللہ بالجہر یا آہستہ؟

استفتاء

امام جب سورۂ فاتحہ شروع کرے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھے یا آہستہ؟ نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا کیا معمول تھا؟

الجواب وبالله توفيق

نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا مشروع ہے، لیکن اسے جہری نماز میں بلند آواز سے پڑھنا لازم نہیں۔ حنفی طریقے میں امام بسم اللہ آہستہ آواز سے پڑھتا ہے، پھر سورۂ فاتحہ کی قراءت شروع کرتا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:

أَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَسْتَفْتِحُ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ

پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا:

صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

“میں نے نبی ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ الحمد للہ رب العالمین سے قراءت شروع کرتے تھے۔”

(صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

اس سے جہر کے ساتھ بسم اللہ پڑھنے کا معمول ثابت نہیں ہوتا۔

جہرِ بسم اللہ کے بارے میں روایات

بعض احادیث میں نبی کریم ﷺ سے بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنا بھی منقول ہے۔ اسی وجہ سے بعض ائمہ نے جہری قراءت میں بسم اللہ بالجہر کو اختیار کیا۔

لہٰذا یہ مسئلہ قدیم اجتہادی اختلاف ہے۔

احناف نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت اور دیگر آثار کی روشنی میں بسم اللہ کو آہستہ پڑھنے کو ترجیح دی ہے۔

کیا بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے؟

حنفی مذہب میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔ امام اسے آہستہ پڑھتا ہے۔

الہدایہ میں امام مرغینانی رحمہ اللہ نے نماز میں تعوذ اور تسمیہ کے متعلق احکام بیان کیے ہیں، جبکہ بدائع الصنائع میں بھی قراءت کے آداب و احکام کے ضمن میں اس کی تفصیل موجود ہے۔

اہم وضاحت

جو امام بسم اللہ بلند آواز سے پڑھتا ہے، اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی، کیونکہ یہ نماز کے فرائض میں سے نہیں۔ اسی طرح جو آہستہ پڑھتا ہے، وہ بھی صحیح طریقے پر عمل کر رہا ہے۔

لہٰذا اس مسئلے کو باہمی نزاع کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

حنفی طریقے کے مطابق جہری نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم آہستہ پڑھی جائے گی۔

مراجع

صحیح مسلم، کتاب الصلاة

سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة

جامع الترمذی، ابواب الصلاة

الہدایہ، کتاب الصلاة

بدائع الصنائع، کتاب الصلاة

رد المحتار، کتاب الصلاة

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

PDF में डाउनलोड करें साझा करें

संबंधित

इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।

सभी देखें
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق ur

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 सितंबर 2026 MAM0052 पढ़ें
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟ ur

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 सितंबर 2026 MAM0051 पढ़ें
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ ur

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 सितंबर 2026 MAM0050 पढ़ें
सवाल