حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
شفاعتِ رسول ﷺ
यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।
فتویٰ نمبر: 12 — شفاعتِ رسول ﷺ
استفتاء:
کیا قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ شفاعت فرمائیں گے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے اور شفاعت کا عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو شفاعت کا مقام عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ
ترجمہ: ’’اور وہ شفاعت نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جس سے اللہ راضی ہو۔‘‘
(سورۃ الأنبیاء: 28)
احادیثِ مبارکہ میں بھی نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا واضح ذکر موجود ہے۔ قیامت کے دن لوگ آپ ﷺ کی بارگاہ میں شفاعت کے لیے حاضر ہوں گے اور آپ ﷺ کو مقامِ محمود عطا کیا جائے گا۔
لہٰذا اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ شفاعت حق ہے، مگر شفاعت اللہ تعالیٰ کی اجازت اور اس کی رضا سے ہی ہوگی۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ الأنبیاء: 28؛ سورۃ الإسراء: 79؛ صحیح البخاری، کتاب التفسیر؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
संबंधित
इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔